اُن کے سائے میں بخت ہوتے ہیں،
باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں
کیا لکھوں اُس باپ پر، جس نے مجھے لکھا ہے ۔ میں اُس عظیم و شان ہستی کے بارے میں بات کرنے جارہی ہوں۔ جس کی شان میں لکھنے بیٹھ جائوں تو سیاہی کم پڑ جائے، سوچنے بیٹھوں تو عقل دنگ رہ جائے اور بتانے بیٹھوں تو عمر بسر ہو جائے، پر اُس عظیم ہستی کی شان مکمل بیان نہ کر سکوں۔ والدین کیلئے ان کی سب اولاد برابر ہوتی ہے۔ ہاں! اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر یہ کہاوت تو سنی ہو گی آپ نے کہ بیٹیاں باپ کے دل کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ باپ وہ عظیم ہستی ہے جس کے پسینہ کی ایک بوند کی قمیت بھی اولاد ادا نہیں کر سکتی۔ یہ سایہ زندگی میں بہت ضروری ہے ۔ اس کے بغیر انسان ایسے ہے جیسے چھت کے بغیر گھر۔ اب یہ اولاد پہ ہے کہ وہ باپ اور ماں کی کتنی قدر کرتی ہے اور یہ ہر خوش نصیب اولاد کی خصلت ہے۔ باپ قدرتی طور پراپنی بیٹیوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور بے شک باپ دنیا کا وہ واحد شخص ہے جو چاہتا ہے کہ آپ اس سے زیادہ کامیاب ہوں۔
لوگ کہتے ہیں کہ اب بھی دنیا میں کہیں نہ کہیں یہ رواج موجود ہے کہ لوگ بیٹے کی پیدائش پر خوشیاں اور بیٹی کی پیدائش پر غمگین ہو جاتے ہیں کیونکہ بیٹیاں تو پرائی ہوتی ہیں۔ مگر میرا اس بات سے بالکل اختلاف ہے کیونکہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ مجھے میری ماں نے بتایا کہ میری پیدائش سے قبل، میرے والد کو بیٹی کی بہت خواہش تھی اور اُس دوران پی۔ٹی۔وی پر ایک کمرشل نشر ہوا کرتا تھا۔ جس میں بیٹی باپ کو کہتی تھی “بابا جانی میں آ گئی” اور میرے والد صاحب میری ماں کو کہتے تھے میرا بہت دل چاہتا ہے کہ میری بیٹی ہو اور وہ مجھے اس نام سے پکارے اور جب میری پیدائش ہوئی تو میرے والد شدید سردی میں نوشہرہ کے ہسپتال میں باہر بیٹھے رہے یہاں تک کہ اُن کی ٹانگیں سردی سے اکڑ گئیں ، پر انہیں بیٹی کے آنے کی اتنی خوشی تھی جو اُس سردی پر حاوی رہی۔
باپ اپنی ساری زندگی اپنے بچوں کو پالنے میں گزار دیتا ہے یونہی اس کی جوانی ڈھل جاتی ہے۔ باپ اور ماں وہ ہستی ہیں جو ہمیں انگلی تھام کر چلنا سکھانے کے ساتھ ساتھ ، دنیوی لرزشوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ ماں باپ کی دعا کامیابی کا دوسرا نام ہے۔ بےشک، وہ شخص بیوقوف ہے جو خود کو اپنے ماں باپ سے زیادہ سمجھدار سمجھے۔ ماں اور باپ آپ کے دونوں قدم ہیں، ایک قدم بھی نہ ہو تو دوسرا اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ارے، باپ تو وہ شجر ہے جو خود کو دھوپ میں رکھ کر اپنی اولاد کے لئے چھاؤں لاتا ہے ۔ وہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ اُس کی اولاد کبھی کسی کی محتاج نہ ہو۔
باپ کا اپنے بچوں کے کندھوں پے ہاتھ اُن کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اگر یہ ہاتھ کندھوں سے اُٹھ جائے تو گویا چھت ہٹ گئی ہو سر سے ۔
“باپ کا ہاتھ پکڑنا سیکھو، زندگی بھر کسی کے پائوں پکڑنے کی نوبت نہیں آئیگی”۔ اُن کی عزت کی حفاظت کرو، جنھوں نے تمھیں عزت دی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
” اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر فرمایا اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، سوال اُٹھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کون شخص ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:۔ جس نے اپنے والدین کو یا اُن میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور اُنکی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکا۔”
دنیا میں جو بھی کرو ماں باپ کی خوشی سے کرو، یقین کریں ایسی طاقت بنو گے ، پہاڑ بھی راستہ دیں گے۔ جن کا باپ نہیں ہوتا ان کا کوئی ہمدرد نہیں ہوتا۔
” والد کی زندگی تجربات کی کھلی کتاب ہے، اس کتاب کے ایک ایک صفحے سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔”
والد کے لئے اپنی اولاد کی خوشی سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہوتی۔ میرے والد میری سب سے بری کامیابی اور خوشی کا ذریعہ ہیں اور میری ماں میری جنت ہے اس کے بغیر میں ایسے ہوں جیسے پانی کے بغیر کنواں۔
جو مانگوں دے دیا کر، اے زندگی،
کبھی تو میرے باپ جیسی بن کے دکھا
مجھے اپنے بچپن کی وہ تصویر آج بھی یاد ہے جس میں میرا ایک ہاتھ میری ماں اور دوسرا ہاتھ میرے والد صاحب کے ہاتھ میں تھا، اس تصویر کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ میری زندگی اُن دونوں سے مکمل ہے اور میری ہر کامیابی کا سہرا آدھا میری ماں اور آدھا میرے باپ کو جاتاہے۔ اللہ پاک ان کا سایہ ہم پر ہمشہ سلامت رکھیں آمین۔
حضور پاک ﷺ نے فرمایا،
“اگر میری ماں زندہ ہوتیں تو میں اُن کی ایسے خدمت کرتا کہ اگر میں عشاء کی نماز کے مُصَلے پہ کھڑا ہوتا اور سورۃ فاتحہ پڑھ چکا ہوتا اور اُدھر سے میری ماں کی آواز آتی ۔”محمد” تو میں ماں کے لئے نماز توڑ دیتا۔”
ماں باپ کے لئے اولاد کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ، مگر ذرا ہم بھی تو ان کی خوشی کا خیال کریں، ان کی خدمت کریں ۔ ماں باپ کو وقت دیا کریں “یوں وہ بوڑھے جوان رہتے ہیں”۔
ماں باپ کی ساتھ کیا جانے والا سلوک ایسا عمل ایسی لکھائی کی مانند ہے جو لکھتے تم ہو مگر پڑھ کر تمھاری اولاد سناتی ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے، ماں باپ سے بھی کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر اس کا حل محبت ہے، کیونکہ ان سے زیادہ دنیا میں تمھارا کوئی عزیز نہیں ہے۔
وہ جو ماں، باپ کی محبت ہوتی ہے نا،
وہ تمام محبتوں کی ماں ہوتی ہے

