0

موت کا کوئ علاج نہیں : تحریر: مناہل عباس

موت کا کوئی علاج نہیں۔ یقیناً اس بات میں کسی قسم کا کوئ شبہ بھی نہیں۔ لیکن یہاں میرا مقصد اُس موت کا ذکر کرنا ہرگز نہیں جو روح کو جسم سے جدا کردیتی ہے۔ بلکہ اُس موت کا ہے جو ہر لمحہ ہم اپنے ہاتھوں میں لیے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ کم سِن بچوں سے لے کر عُمر رَسیدہ لوگوں کے ہاتھ میں یہ ایٹم بم عرف موبائل ہے، جس نے ہمیں اُس جگہ لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں ہمارےآگے کنواں اورپیچھے کھائی ہے۔ آج کل اس دورِ جدید میں اِس آفت سے ایک گھنٹہ بھی دور رہنا کوئی معرکہ مارنے سے کم نہیں۔ سائبر کرائم سے لے کر ہولناک بیماریوں سمیت سب آج اِسی کی مرہونِ منت ہے۔ ہم سُنتے ہیں کہ مائیں بچوں کی ہر طرح سے حفاظت کرتی ہیں، انہیں بیماریوں سے دور رکھتی ہیں لیکن اب یہاں تو مائیں خود بچوں کو اِس موت کے کھلونے ہاتھوں میں تھما کر متعارف کرواتیں ہیں۔
اِس موت کی بدولت ہی تو آج کل بچے ذہنی دباؤ،دہشت گردی، اضطراب، حسد، بدلے، بدتمیزی اور نفسیاتی بیماریوں میں بُری طرح مبتلا ہیں۔ یہ چھوٹا سانپ پھر ایک اژدھا کا روپ، گندگی اور فحاشی پسند چینلز اور ویڈیو کلپس میں ڈھال لیتا ہے۔
کرتے ہو تم بات ہزار بیماریوں کی
آؤ آج متعارف کرواؤں ایک بلا سے
دیتے تھے کبھی جو پیسہ بیماری کے علاج میں
آج لگاتے ہیں ہزاروں اِس کو خریدنے میں
اِس دورِ جدید نے دیکھو کیا حال کیا ہمارا
اِس موت کو نہ دیکھوں تو موت آتی ہے
کہتے ہو تم اِس کو موت کی مانند ہے
یہ کیسی موت ہے جس کی لذت ہے بہت

جب گھر کے تمام افراد ایک دوسرے کو وقت اور توجہ دینے سے کاثر ہوں گے اور سارا وقت اِس موت کے ساتھ گزاریں گے تو اِس کا نتیجہ اولڈ ایج
ہومز میں بزرگوں کی کثیر تعداد اورMummy (مری ہوی لاش) اورDaddy ، Dead(مرا ہوا) ہی سمجھیں گے اور آخرکار اپنا خاتمہ بھی خودکشی کی صورت میں کریں گے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ اِس کا کوئی علاج بھی نہیں جس کوایک بار اِس کی لت لگ جاۓ وہ اِس موت سے پیچھا نہیں چُھڑوا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں