جامعہ مسجد میں جمعہ کی نماز با جماعت فرض ہے۔ اگر کوئی سفر یا بیماری کے باعث اس عمل سے قاصر ہو تو اُس پر لازم ہے کہ نمازِ ظہر ادا کرے۔
کرونا کی وجہ سے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سماجی تہجیر لازم و ملزوم قرار ہے اور حکومت اور علماء کی اپیل ہے کہ اکثریت گھروں میں نماز ادا کرے۔ سندھ حکومت نے تین گھنٹے کا مکمل لاک ڈاؤن لگا کر اِس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حالات کے پیشِ نظر عوام گھروں میں رہیں اور جمعہ کے اجتماعات نہ ہو پائیں۔
بہر کیف حضرت عمرؓ کے شام کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل اِس حدیث کی منادی دی جا رہی ہے کہ کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو اس علاقے کے لوگ وہاں سے نہ نکلیں اور بیرون کے لوگ وہاں داخل نہ ہوں۔
حیف، اپنے مطلب کی شرح ہمیشہ ہمارا اسلوب رہا ہے سو ہم نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ مسجد میں جانے سے احتراز عین تعلیمِ اسلام ہے۔ تاویل کی گئی کہ کسی بھی جگہ بیماری ہو تو وہاں کے لوگ اُس جگہ سے باہر نہ نکلیں اور بہر کے لوگ اُس جگہ کا رُخ نہ کریں، لہذا مساجد جانا منع ہے۔ اِس تاویل کو درست مانا جائے تو یہ یقینی ہے کہ اگر ایک گھر میں 5 افراد بیمار پڑ جائیں تو چھٹے فرد کو گھر سے نکلنا ممنوع ہے۔ صد افسوس، ہر فرد اور ہر طبقہ ایک ہی قرآن سے اپنی اپنی طرز کی تاویل نکال کر اپنا اپنا مدّعا ثابت کرتا ہے۔ پردے کے قائل چہرہ ڈھانپنے کے لیے جہاں سے روایت مستعار لیتے ہیں، پردے سے پرہیز والے بھی دلیل کے لیے اُسی شہرِ علم کا رخ کرتے ہیں۔ ظُلم تو یہاں تک پھیلا ہوا ہے کہ حسینؑ والے تو تو احادیث کا انبار لگاتے ہی ہیں، یزید والے بھی کسی لشکر کی فوج کے جنتی ہونے کی حدیث اُٹھا کر یزید کو جنتی بنا دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جس بستی میں طاعون پھیل جائے، اس بستی کے لوگوں کا اخراج اور بیرون کی لوگوں کا وہاں داخلہ تو منع ہے ہی، کیا دونوں گروہوں کا اپنی اپنی مساجد جانا بھی ممنوع ہے؟ وہ زمانہ کہ جب دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے پاس علاج نہیں، جب وبا پوری دنیا میں پھیل چکی، اُس زمانے میں اگر فیکٹری کھلی رہ سکتی ہے، تو مسجد میں داخلے پر پابندی کیوں ہے؟ کیا وہ جراثیم خوردہ دروازے جو منڈیوں کے داخلی راستوں پر نصب ہیں، مساجد کے داخلی راستوں پر نہیں لگ سکتے تھے؟
کیا مسجد میں داخلے بند کرنے کے بجائے یہ پابندی ممکن نہیں تھی کہ جو شخص گھر سے با وضو ہو کر، ماسک اور دستانے پہن کر نہ آئے گا، اُسے روک دیا جائے گا؟ کیا یہ انتظام صرف سود کی منڈیوں یعنی بینکوں تک ہی ممکن تھا؟ غریب آدمی کہ جس کے پاس دُعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا، اُس پر خدا کے گھر کا داخلہ بند کرنا ہی آخری حل تھا؟ کیا کرونا صرف مسجدوں کے لیے ہے؟ کیا سڑکوں پر ہونے والی سپرے مسجد کے لیے نا پاک ہے؟ کیا میڈیا کے لیے اپنی دانست کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مولوی بن جانا عقل کی دلیل ہے؟
جب ڈاکٹر بے بس ہو جاتا تھا تو مریض کے لواحقینسے کہتا تھا بس دعا کریں۔ اب تو دعا کا در بھی بند کر دیا گیا ہے۔
؎ خدا کا گھر بھی ضرورت کے وقت بند ملا
ہمارے ساتھ عجب حادثہ یہ خامؔ ہوا
اب ڈاکٹر کیا کہے گا؟ انتظار کیجئے، بندہ مر جائے، پھر آپ کو فارم پُر کروا کر بے روح جسم دیتے ہیں؟ واللہ بے روح جسموں کی تو ہمارے ہاں پہلے ہی بہتات ہے۔
؎ کون زندہ ہے، مر گیا ہے کون
سانس لینے سے طے نہیں ہوتا
راشن کے لیے جمع ہونے والے گروہوں پر اعتراض یا اُن کے متعلق انتظام شاید اِس لیے ضروری نہیں ہے کہ اربابِ اختیار کی تصاویر کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکمران روزانہ کی پریس کانفرنس نماز سے کچھ قدر پہلے رکھتے، پھر کیمرہ کے سامنے وضو کرتے، ماسک اور دستانے پہن کر مساجد جاتے اور وہاں کوئی شخص کہتا کہ حضور اگر احتیاطی تدابیر مکمل نہیں تو آپ کسی بھی عہدہ پر فائز ہوں، مسجد میں داخلہ منع ہے۔ مسجد میں صرف پاک ہو کر داخلہ ممکن ہے اور موجودہ تحقیق کے مطابق اِس پاکی میں کرونا سے پاک ہونا بھی شامل ہے۔
ہمیں گورنمنٹ کے انتظامی فیصلوں سے بغاوت نہیں ہے، مگر سوال اٹھانا ہمارا حق ہے۔ مساجد پر اِس قدر بحث ویسے ہی لاحاصل یوں بھی محسوس ہوتی ہے کہ مساجد میں جانے پر جب پابندی نہیں بھی تھی، تب بھی اکثر مساجد میں بمشکل 5 افراد ہی نماز کے لیے آیا کرتے تھے۔ گورنمنٹ اور میڈیا نے بغیر وجہ اس معاملے کو وجہِ تکرار بنا ڈالا ہے۔ اصل توجہ اِس طرف ہونی چاہیے تھی کہ جو چند افراد اپنی عبادت گاہوں میں آتے ہیں، اُن کو اِس وبا سے سیکوریٹی کیسے فراہم کی جائے۔ مگر ہمارے انتظامی اور دفاعی ڈھانچوں کا اصل حال سامنے آ گیاہے۔
بچپن میں کہانی پڑھا کرتے تھے کہ ایک اُستاد بادشاہ کے بیٹے کو بادشاہت کی تربیت دینے کے لیے جنگل بھیجتا ہے، کہ جاؤ آوازوں کی فہرست بنا کے لاؤ۔ شہزادہ فہرست لاتا ہے تو استاد نامکمل کہہ کر لوٹا دیتا ہے۔ دوبارہ آتا ہے دوبارہ لوٹا دیا جاتا ہے۔ بالآخر وہ لوٹ آتا ہے اور بتاتا ہے استادِ محترم اِس مرتبہ میں نے خاموشی کو سنا، اُن آوازوں کو سُنا جو سُنائی نہ دیتی تھیں۔ پھول کا کھلنا سُنا، بیج کا پھوٹنا سُنا، پرندوں کا سونا سُنا، وہ سب سنا جو سُنائی نہ دیتا تھا۔ استادنے کہا بیٹا تعلیم مکمل ہوئی۔ بادشاہ کا کام ہے کہ صرف وہی نہ سنے جو سنائی دیتا ہے، وہ سب بھی سنے جو دوسروں کو سنائی نہیں دیتاہے، تا کہ رعایا کا وہ دُکھ اور تکلیف بھی اسے معلوم ہو جو درباری اس تک پہنچنے نہیں دیتے ہیں۔
آج کے ظاہری اور غیر ظاہری حکمرانوں کو اِس خصوصیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ کہ اُس دشمن کا مقابلہ بھی کر سکیں، جو اُنہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔
0

