ملتان:: شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ علیحدہ صوبے کے قیام کیلئے ہمیں تمام جماعتوں اور طبقات کی حمایت کی ضرورت ہے، نئے صوبے کے دارالحکومت کیلئے جان بوجھ کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں، دارالحکومت کا فیصلہ جنوبی پنجاب صوبے کی اسمبلی کرے گی، نئے صوبے کے قیام کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔
سرکٹ ہاؤس ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ابہام کو دور کرنا چاہتا ھوں، تحریک انصاف نے علیحدہ صوبے کو منشور کا حصہ بنایا، اس پر ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا، ہمارا مقصد ایک علیحدہ صوبہ کا قیام ہے، فیصلہ ہوا کہ اس حوالے سے بل کی حمایت کے لئے دیگر پارٹیوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے معاملے پر تمام پارٹیوں کے جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی ہمارا ساتھ دیں، صوبہ کے لئے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا سیکرٹریٹ کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، مشاورتی اجلاس کے بعد ابہام پیدا کیا گیا کہ بہاولپور میں بنے گا، یہ درست نہیں ہے، ایسا فیصلہ نہیں ہوا، یکم جولائی کو سیکرٹریٹ فنگشنل ہو جائے گا، دارالخلافہ کا فیصلہ جنوبی پنجاب کی اسمبلی کرے گی، آگے بڑھنے کے لئے ایک حصہ ملتان میں اور ایک بہاولپور میں بنایا جائے گا، وزیراعظم سے آمادگی کے بعد یہ بات کر رہا ہوں، اب اس خطے کے لوگوں کو لاہور کے بجائے ملتان اور بہاولپور جانا پڑے گا، غربت کے لحاظ سے اس خطے کے اضلاع زیادہ ہیں، اس خطے کے منصوبوں کے پیسے منتقل کئے جاتے رہے، ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویژن کے تمام علاقوں کی ترقی آپس میں جڑی ہوئی ہے۔

