0

طلباء میں مقصد کے تعین کا فقدان۔ ::‌ تحریر: ارسلان سلیم

“کیا آپ مجھے بتائیں گے یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟” راہ گزر نے ہم سے پوچھا۔
ہم نے کہا موصوف آپ نے جانا کدھر ہے تو وہ بولے مجھے کہیں نہیں جانا بس گومنا پھرنا ہے۔

ہم نے بلاترد جواب دیا۔”اگر آپکی کوئی منزل نہیں تو پھر آپ کو اس بات کی فکر نہی کرنی چاہیے کہ یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟”
۔۔۔
جب دن کا آغاز ہوتا ہے تو ہم سب کے پاس اپنی مرضی اختیار کرنے کا حق ہوتا ہے۔ہم یہ استفسار کر سکتے ہیں:’اب میں کیا کروں؟’ یاپھر ‘مجھے کیا کرنا چائیے؟’۔
کسی بھی سمت، کسی بھی مقصد کے بغیر آپ جو کچھ بھی کریں گے، آپ کو کہیں نہیں لے کر جائے گا۔لیکن آپ اپنے مقصد کے تحت کہیں جا رہے ہوں گے کچھ نہ کچھ آپ کے لیے موجود ہوگا کہ آپ فلاں کام انجام دیں جو آپ کو وہیں لے جائے جہاں آپ جانا چاہتے ہیں۔ جب آپ کی زندگی مبنی بر مقصد ہوتی ہے تو آپ کو علم ہو جاتا ہے کہ آپ کی منزل کہاں ہے۔

قدرت کا ایک اصول ہے جب آپ سچے دل سے، سوچ سمجھ کے اپنے مقصد کا تعین کر لیتے ہیں تو وہ آپ کی مدد کرتی ہے۔وہ آپ سے کبھی کبھار کچھ چیز چھین کر یا آپ کو کوئی ناکامی دے کر واپس آپ کو آپ کے مقصد تک لاتی ہے۔

مثال کہ طور پر اگر آپ کی فلائیٹ ہے صبح کے سات بجھے اور آپ کو بڑی خوشی ہے جانے کی تو امید ہے آپ کو رات کو نیند ہی نہ آئے یا آپ اگر سو جائیں تو خود بخود آپ کی آنکھ کھل جائے۔
ایسا کیونکر ہوتا ہے؟
یہ اس لیے کہ آپ نے اپنی منزل یا مقصد کو پختہ طور پہ سمجھ لیا ہوتا ہے۔
جب آپ اپنے مقصد کا تعین کر لیتے ہیں تو آپ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہوتی ہے جو ہمیں رات دیر تک کام کرنے پر اکساتی ہے اور صبح جلدی اُٹھاتی ہے۔

ہمارے طلباء کسی بھی شعبے کو صرف اس لیے اپنا لیتے ہیں کہ ان کا کوئی قریبی رشتے دار یا جاننے والا کوئی اس شعبے میں ہے۔ اسی لیے وہ زیادہ پُرجوش نہیں ہوتے اس شعبے کی چیزوں کو جاننے کے لیے۔
اور اس لیے کہ انکا کوئی مقصد مقرر نہیں انہوں نے ضروری ہی نہیں سمجھا کہ اس کام کو بہترین انداز میں سرانجام دیا جائے ۔

اسی لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد کے طلباء کے اندر یہ شوق اجاگر کریں کہ وہ اپنی زندگی کو ایک سمت دے کر ایک مقصد کی جانب گامزن ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں