باغِ رسالت میں ہزاروں پھولوں نے پرورش پائی اور ہر پھول نے اپنی خوشبوں سے دنیا کو متاثر کیا۔ باغِ رسالت کے ایک پھول ،دامادِ رسولﷺ، فاتح جنگ خیبر ، بدر و حنین ، شیر یزداں ، وصیِ مصطفیٰ ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جن کے متعلق حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
میں شہرِ علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے۔(. المعجم الکبير لطبراني، 11 : 55 2. مستدرک للحاکم، 3 : 126 – 127، رح : 11061 3. مجمع الزوائد، 9 : 114) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت علیؑ کا ذکر عبادت ہے۔( فردوس الاخبار للديلمي، 2 : 367، ح : 2974 2. کنزالعمال، 11 : 601، ح : 32894 ) ا ن احادیث سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان و عزمت کا اندزہ لگایا جا سکتا ہے۔
آپ ؑکانام علیؑ کنیت ابوالحسنؑ،ابوترابؑ، القابات مرتضیٰؑ،اسداللہؑ،حیدرکرارؑ،شیرخداؑاورمولامشکل کشاؑہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدکانام ابوطالب تھا، جو حضرت عبدالمطلب کے بیٹے اورآقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے چچاتھے۔آپ کی والدہ ماجدہ کانام حضرت فاطمہ بنت اسدجوحضرت عبدالمطلب کی بھتیجی تھیں ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی پیدائش کے تیسویں سال مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اور حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے عمرمیں تیس برس چھوٹے تھے۔آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی۔آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے پیداہونے کے بعدتین دن تک دودھ نہیں نوش فرمایاجس کی وجہ سے آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کے گھروالے سب پریشان ہوگئے۔ اس بات کی خبرآقائے دوجہاں سرورکون ومکاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کودی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم تشریف لائے اورحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کواپنی آغوش رحمت میں لیکرپیار فرمایااوراپنی زبان اطہرآپ کرم اللہ وجہہ الکریم کے دہن میں ڈال دی۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم زبان اقدس کوچوسنے لگے اس کے بعدسے آپ کرم اللہ وجہہ الکریم دودھ نوش فرمانے لگ گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف 5سال اپنے والدین کے زیرسایہ پرورش پائی۔اس کے بعدنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے سایہ رحمت میں لے لیااورآپ کی تربیت فرمانے لگے۔(مشکوٰۃ المصابیح)
وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔ حضرت علیؓ کا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔
جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ قائم کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبرمحمدﷺ نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا۔آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علیؑ کا ہاتھ بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہے۔
19 رمضان 40 ہجری میں ایک شقی القلب شخص عبد الرحمن بن ملجم نے مسجدِ کوفہ میں نماز کی حالت میں زہر آلود خنجر سے آپ کے سرِمبارک پر وار کیا اور آپ نے وہ آفاقی جملہ ارشاد فرمایا جس کی نظیر تاقیامت کوئی پیش کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ کوئی سورما موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں کہہ سکتا ، “فزت و رب الکعبۃ”( ترجمہ: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا)۔
اتنی غزوات میں رسول پاک ﷺ کے ساتھ فتح و کامرانی حاصل کرنے والے ، ساری ساری رات عبادت میں گزارنے والے علی ، رسول اللہﷺ کی پاک زبان سے جنت کی خوشخبری حاصل کرنے والے علی، زہر آلود خنجر سے زخمی ہونے کے بعد یہ جملے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ شہادت کے ایسے پیاسے تھے جیسے کوئی صحرا میں پانی کا پیاسا ہوتا ہے۔
زخمی ہونے کے بعد آپ نے حضرت امام حسنؑ کی امامت میں صبح کی نماز ادا کی اور بعد از نماز امام حسنؑ اور امام حُسینؐؑسے فرمایا۔
“میں تم دونوں کو خدا سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔اور دیکھو دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل کیوں نہ ہو۔اور دنیا کی جس چیز سے تم کو روک لیاجائے اس پر افسوس نہ کرنا۔اور جو بھی کہنا حق کہنا۔اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔ظالم کے مخالف اور مظلوم کے مددگار رہنا۔میں تم دونوں کو اوربقیہ اپنی تمام اولادوں اور، اپنے تمام اہل وعیال کواور ان تمام افراد کو کہ جن تک یہ میرانوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔اورباہمی تعلقات کو استوار رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوےسنا ہے کہ:آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کہ کہیں ان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہاری موجود گی میں وه ضائع نہ ہو جائیں۔خدارا خدا را، اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا کہ ان کے بارے میں تمہارے نبی نے وصیت کی اور اتنی شدیدتاکید فرمائی ہےکہ یہ گمان ہونے لگا تها کہ کہیں آپ ؐاُنھیں بھی میراث پانے والوں میں سے قرار نہ دے دیں۔خدارا خدارا ،قرآن کا خیال رکھنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔خدارا خدارا ،نماز کی ادائیگی میں پابند ی رکهنا اس لئے کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔خدارا خدارا ،اپنے رب کے گھر کا خیال رکھنا، جب تک کہ تم زندہ ہو اسے خالی نہ چھوڑنا۔کیونکہ اگر اسے خالی چھوڑ دیا توپھر عذاب سےمہلت نہ ملے گی۔خدارا خدارا ، راہِ خدا میں اپنی جان، مال،اور زبان کے ذریعے جہاد سے دریغ نہ کرنا۔تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرنا اورخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔دیکھو،امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تب بھی وہ قبول نہ ہوگی۔دیکھو، میرےقتل کے بدلے صرف میرا قاتل ہی قتل کیاجائے۔ دیکھو، اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس کےسر پر ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔”(نہج البلاغہ مکتوب (47) وصیت ترجمہ مرحوم مفتی جعفر حسین)
حضرت علیؑ کی یہ آخری وصیت جو بظاہرانہوں نے صرف امام حسنؑ اور امام حُسینؑ کو کی مگر یہ نصیت تمام امتِ محمدیؐ کے لیے تھی۔
ضرب لگنے کے دو دن تک آپ بسترِ مرض پر رہے اور 21 رمضان کو صبح کی نماز کے بعد آپ کو وہ کامیابی مل گئی جس کا ذکر آپ نے خنجر لگنے کے بعد کیا۔ اس دنیا میں انسان کے آنے کا مقصد اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی ہے۔جو لوگ اس جہاں میں اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، وہی حقیقت میں کامیاب ہیں اور آپؑ نے ساری زندگی خدا کے احکامات پورے کرنے میں گزار دی اور آخر میں شہادت کا عزیم رتبہ بھی حاصل کر کے خود کو کامیاب قرار دے دیا ۔
0

