ادو میں مبینہ طور پر سنگسار کر کے قتل کر دی جانے والی بچی کی والدہ منظر عام پر آگئی، والدہ لیلیٰ رند کا کہنا ہے کہ کسی نے جھوٹی خبر چلائی ہے، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہماری ہی بچی کی موت ہوئی اور ہمیں ہی ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، شوہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور میں در بدر ہوگئی ہوں۔ لیلیٰ رند کا کہنا ہے کہ ان کی بچی کو سنگسار کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ یہ کسی نے غلط خبر چلائی ہے۔ لیلیٰ رند کا کہنا ہے کہ ہماری ہی بچی جاں بحق ہوئی اور ہمیں ہی اذیت دی جا رہی ہے۔ میرے شوہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جبکہ میں خود در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں۔ یاد رہے کہ دادوکے علاقے جوہی میں کاروکاری کے الزام میں 11سال کی بچی کو بے دردی سے سنگسار کر دیا گیاتھا،آئی جی سندھ پولیس نے دادومیں بچی کو سنگسار کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی دادو سے واقعے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کی تھیں۔دوسری جانب جی ڈی اے کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو کو سندھ میں بسنے والوں کی کوئی پرواہ نہیں، بے گناہ بچیوں کو کاری قرار دے کر قتل کیا جارہا ہے۔ ے مطابق دادو کے علاقے جوہی میں 21نومبر کی شام کو ایک 11 سالہ لڑکی کو کاری قرار دے کر سنگسار کیا گیاتھا اور پھر دفنا دیا گیاتھا، لڑکی کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق لڑکی کے والدین اور 2 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا، قبر کشائی کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا گیا تھا، قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم کرایا جانا تھا، مختلف پہلوں سے مقدمے کی تفتیش ہو رہی تھی۔ ایس ایس پی دادو سے واقعے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کی تھیں، انہوں نے ہدایت کی تھی کہ تفتیش کو موثر بنا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
0

