0

حکومت نے مخصوص کاروبار کی اجازت دی، تاجروں نے بے احتیاطی کی حد کردی

لاہور:: شہر شہر لوگوں کی اپنی مرضی، ہر کسی نے دکان کھول لی، حفاظتی تدابیر بھی نہ ہونے کے برابر، احتیاطی تدابیر بھی نظر انداز، کورونا کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کئی بازار بند کروا دئیے۔

تفصیل کے مطابق لاک ڈاؤن میں حکومت کی جانب سے کچھ شعبوں کیلئے نرمی دکھائی گئی تو پلمبر، الیکٹریشن، مکینک، درزی اور تعمیراتی شعبہ کے ساتھ دیگر کاروبار کرنے والوں نے بھی شٹر اٹھا لئے۔

تعمیراتی شعبوں کو چھوٹ ملنے پر ریت، بجری، سیمنٹ اور سریا والوں کو اجازت ملی تو ماربل، پتھر، سینری فٹنگز والوں نے بھی دکانیں کھول لیں۔ خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے صرف گرے سٹرکچر سے وابستہ تعمیراتی انڈسٹری کو اجازت دی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے پولیس سے مل کر چند گھنٹوں بعد شٹر ڈاؤن کروا دیا۔ سٹیشنری کی دکانیں کھولنے کی اجازت کیا ملی اردو بازار کے تاجروں نے احتیاطی تدابیر ہی نظر انداز کر دیں۔ سارا دن اردو بازار کے تاجر وقفے وقفے سے دکانیں کھولتے رہے جبکہ پولیس بند کرواتی رہی۔

شہر کی سب سے بڑی الیکٹرونکس مارکیٹ عابد مارکیٹ تو بند رہی تاہم کچھ دکاندار آدھا شٹر اٹھا کر ایجنٹوں کے ذریعے کاروبار کرتے رہے۔ ادھر لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے روز کا حجاموں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ حجام نے قینچیاں اور استرے تیز کر کے ازخود دکانیں کھول لیں اور کاروبار کرتے رہے۔

لبرٹی مارکیٹ اور کریم بلاک میں جزوی لاک ڈاؤن کے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد نظر آیا۔ انارکلی بازار میں بھی کھانے پینے کی دکانوں کے سوا تمام کاروبار بند رہا۔ حفیظ سینٹر کے تاجروں نے 30 اپریل تک لاک ڈاؤن کے حکومتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا اعلان کیا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے ہی روز عجیب صورتحال بن جانے سے شہری بھی مخصمے کا شکار دکھائی دئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں