آجکل رمضان کا مبارک مہینہ ہے اور تقریباً ہر مسلمان عبادات میں مشغول رہتا ہے۔ وہ مسلمان جو پہلے سُستی، کاہلی یا نفس کے زیر اثر آ کر عبادات سے دور ہو جاتے تهے وہ بهی اس ماہ مبارک میں پورے ولولے اور دلجوئی کے ساتھ عبادتیں کرتے ہیں ۔پہلے جو پنجگانہ نماز کترا کترا کر ادا کیا کرتے تهے اس ماہ میں وہ نماز تراویح بهی شوق سے پڑهتے ہیں پورا دن اللہ قادرمطلق کی رضا کے لیے بهوکے پیاسے رہتے ہیں حتیٰ کہ پارسائی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وضو کرتے ہوئے بهی اس بات کا پورا خیال رکهتے ہیں کہ پانی کا ایک قطرہ بهی حلق سے نیچے نہ اتر جائے۔ہر ایک زبان پر ہمدردی و نیکی کے نغمے ہوتے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے کو پارسائی کی تلقین کر رہا ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر دل بہت خوش ہوتا ہے کہ تقریباً سب ہی حقوق اللہ احسن طریقے سے نبها رہے ہیں۔ سب ہی خدا کے آگے سجدہ ریز ہیں اور اپنے عصیاوں اور خطاؤں پر شرمسار ہیں۔
اچانک سے میرے کان یہ خبر سنتے ہیں کہ افطاری کے وقت شربت میٹها نہ بنانے پر ایک بهائی نے اپنی بہن کو قتل کر دیا۔ میں اس شخص کی قوت برداشت پر حیران ہوتا ہوں کہ جو پورا دن تشنگی تو سہہ لیتا ہے مگر صرف شربت میٹها نہ ہونے کے باعث اپنی بہن کو ہمیشہ کے لیے مٹی تلے سلا دیتا ہے ۔یہ کیسی برداشت تهی ؟یہ کیسا صبر تها؟یہ کیسا نفس پر قابو تها؟ یقیناً اس بات پر فرشتے بهی حیران ہوتے ہوں گے ۔
ابهی اس بات پر حیرانی ختم نہیں ہوتی کہ ایک اور خبر سننے کو ملتی ہے کہ راشن کی تقسیم کے دوران لوگوں کے درمیان جهگڑا ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو لہولہان کر ڈالتے ہیں۔کیا یہی ہمارا صبر ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔” یہاں زبان کا بهی زکر ہے اور ہاتھ کا بهی مگر بدقسمتی سے نہ تو ہماری زبان سے لوگ محفوظ ہیں اور نہ ہی ہاتھ سے۔ ہم لوگ تو اپنی زبانوں سے ڈستے ہیں اور زبان سے ڈسے جانے کے بعد جو زہر پهیلتا ہے وہ پورے جسم کو مفلوج کر جاتا ہے۔یہ زہر سانپ کے زہر سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ہم نمازیں تو بڑے شوق سے ادا کر رہے ہیں مگر ہماری زبانیں لوگوں کو طعنے کسنے میں ،لوگوں کی عیب جوئی کرنے میں اور لوگوں کی غیبت کرنے میں مصروف ہیں۔ہم رمضان کے روزے تو رکھ رہے ہیں مگر ساتھ ساتھ غریب اور متوسط طبقے کا جینا بھی حرام کر رہے ہیں۔ہم عبادتیں تو کرتے ہیں مگر اوروں کو کم تر و حقیر جانتے ہیں۔ہم خود کو نہایت ہی پارسا اور معزز سمجهتے ہیں جبکہ اوروں کو سیاہ کار تصور کرتے ہیں اور ان کے اوپر جب بهی موقع ملے طنز اور طعنے کس کر ہم اس پر قہقے لگاتے ہیں۔ کیا یہی ہمارا ایمان ہے؟کیا انہی اعمال کی بنا ہر ہم بروز حشر نبی کریمﷺ کی زیارت کے مشتاق ہیں؟میرے پاس تو زیادہ علم نہیں مگر ایک کتاب میں میں نے یہ بات پڑهی تهی کہ “اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے حقوق قیامت کے روز معاف فرما دے گا مگر بندے کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوں کہ جب تک کہ بندہ خود معاف نہ کر دے۔”
ہم لوگ حقوق اللہ میں تو بہت آگے نکلنے کی کوششیں کر رہے ہیں مگر ہم بندوں کے حقوق کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں۔انہیں طرح طرح کی ذہنی و جسمانی اذیتیں پہنچا رہے ہیں۔اپنے گفتار سے اور اپنے افعال سے ان کا جینا دوبهر کر رہے ہیں۔تو اگر ہماری یہی حالت زار رہی تو قیامت کے دن ہمیں سوائے ندامت اور پچهتاوے کے اور کچھ نہیں ملے گا.۔
خدا کو منا رہے ہیں لوگ
خلق خدا کا دل دکها کر
ہمیں ایک دوسرے کی تعظیم کرنی چاہیے ۔نا حق کسی کا دل نہیں دکهانا چاہیے کیونکہ دل سے جو دعا اور جو بد دعا نکلتی ہے سیدهی عرش تک جاتی ہیں۔حقوق اللہ ضرور نبهائیں مگر ساتھ میں حقوق العباد پر بهی توجہ دیں تاکہ آپ کی وجہ سے کوئی چہرہ خوشی سے کهل اٹهے، تاکہ آپ کو دیکھ کر مسلمانوں کو فخر ہو کہ اسلام کی بنیادی تعلیم انسانیت ہے۔اسلام امن محبت اخوت و بهاءی چارے کا دین ہے اور بندوں کے سب سے زیادہ حقوق اسلام نے متعین کیے ہیں۔جس طرح آپ.کو احساس ہے کہ قیامت کے دن نمازوں کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا اسی طرح اس بات کا احساس بهی پیدا کریں کے قیامت والے دن حقوق العباد کی بهی پوچھ ہو گی اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادات تو بہت ہوں مگر اللہ کی مخلوق کی ہم سے شکایات ہماری عبادتوں سے زیادہ ہوں اور کہیں انہی شکایات کی بنا پر آپ کی دنیا و آخرت برباد نہ ہو جائے
اللہ قادرمطلق ہم سب کو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو احسن طریقے سے نبهانے کی توفیق دے۔آمین۔ثم آمین۔
0


بہت ا علی زبردست ماشاءاللہ۔ اللہ پاک آپ کے علم میں اور برکت دے آمین
آمین ثم آمین
بہت نوازش آپکی جناب
جزاک اللہ