کیپسین کا علاقہ جو سابقہ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد قائم ہونے والی ریاستوں: آزر باہیجان،قازقستان،ترکمانستان ،ازبکستان اور ایران کی ساحلی پٹی پر مشتمل ہے،
اس علاقے میں موجود تیل کا تخمیہ پندرہ ارب بیرل اور گیس کے زخائر نو کھرب کیوبک میٹر ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اگر ان ذخائر کو مسلسل ایک سو پچاس سال تک بھی استعمال کیا جائے تو تیل اور گیس کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ نے ،جو ہمیشہ سے وسائل کے لیے خون کی ہولی کھیلتا آیا ہے، اس تک پہنچنے کے لیے پہلے عراق کو صدام حسین سے آزاد کرانے کے نام پر قبضہ کیا۔صدام حسین 1979 میں جب برسرِ اقتدار آیا تو اس نے عراق میں موجود تمام تر امریکی اور برطانوی کمپنیوں(BP, Shell, ESSO, Mobic) کو جو کہ عراق سے تیل نکالتی تھیں، ملک بدر کر کے عراقی کمپنیوں کو کام سونپ دیا تھا۔( وہی صدام حسین جو امریکہ کا اپنا پالا ہوا تھا۔ اب ایک بڑا دہشت گرد تھا۔) جو ایک بیرل تیل کو ایک ڈالر کے عوض نکالتی تھیں، جبکہ سعودی عرب میں تیل کے زخائر سے ایک بیرل 2 ڈالر کے عوص نکالا جاتا تھا(2004 کے سروے کے مطابق )۔یہ کمپنی سالانہ 476ملین ڈالر کی بچت عراق کو دیتی تھی ۔
یہ تیل کی سپلائی بحیرہ کیپسین کے علاقے سے ہوتی تھی ۔ اس علاقے میں اسامہ بن لادن کا نیٹ ورک موجود تھا۔ بذات خود اسامہ سینئیر بش کا دوست تھا۔صدر بش کے والد کا کاروبار بھی تیل نکالنا اور سپلائی کرنا ہی تھا۔جب اسامہ نے تیل کی سپلائی کا ٹھیکہ امریکہ کی جگہ ارجنٹائن کی کمپنی کو دینے کی تجویز پیش کی تو اسامہ ایک دہشت گرد بن گیا ۔2011 میں امریکہ نے پاکستان کی مدد سے اسامہ بن لادن کو اپنے انجام تک پہنچایا ۔
1991 میں خلیجی جنگ کے نتیجے میں امریکہ نے خلیجی ممالک میں امن سلامتی اور نیشنل سیکیورٹی کے نام پر اپنے ہوائی اڈے بنا ئے تو اس تیل کی سپلائی پر کنٹرول کر لیا ۔ لیکن ابھی بھی تیل کے اصل ذخائر صدام کے پاس تھے۔چنانچہ 2003 میں عراق پر حملہ کر کے ان زخائر پر بھی مستقل قبضہ کر لیا گیا۔عراق سے نکلنے والے تیل کے ذخائر 2030 تک امریکہ کے لیے کافی ہیں۔
2030 کے بعد کیپسین کے علاقے میں موجود تیل جو اگلے 150سال کے لیے کافی ہے ،اب امریکہ کی نظر میں ہے۔
لیکن اس راستے کی واحد رکاوٹ ایران ہے۔ایرانی جرنیل سلیمانی جو کبھی امریکہ کی مدد سے عراق میں قتل وغارت کرتا تھا،۔اب کی بار وہ دہشت گرد قرار پایا۔
امریکہ کی نظر میں دہشت گرد صرف وہ ہے جو ان کے لیے وسائل کے راستے میں رکاوٹ ہو۔کیونکہ اب افغانستان اور وزیرستان کے راستے ایران پر کنٹرول مشکل ہوتا دکھائی دیا تو واحد راستہ عراق تھا ۔جہاں قاسم سلیمانی رکاوٹ بن سکتا تھا۔جرنیل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے وقتی جذبات کا اظہار اپنے کئی قیمتی راکٹ و بارود کو بغیر کسی دانست و حکمت عملی کے ہوا میں اڑا ڈالا۔جس سے امریکہ کو کوئی خاطر خواہ نقصان نہ ہوا۔
ابھی امریکہ ایک ان دیکھے دشمن کورونا سے دوچار ہے ۔مگر امریکہ کے ارادے کسی بھی صاحب دانست سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
0


بہت خوبصورت تحریر لکھی آپ نے۔۔۔