افلاس کی زنجیریں تقدیروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں لیکن بدلتے حالات غربت کے اندھیروں کو نہ مٹا سکے۔ غربت چہرے بدل بدل کے نئی تصویروں کا روپ دھار کر منظر عام پر آ جاتی ہے۔ کبھی سیلاب کبھی مہنگائی کبھی دہشت گردی کبھی ڈینگی اور کبھی کرونا کی صورت درپیش ہے۔
کwرونا سے ڈرنا ہے ،مہنگائی سے لڑنا ہے ،اور غربت سے مرنا ہے۔ زندگی کے تحفظ کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو بھوک انسانوں کو غربت کے اندھیروں میں دھکیل رہی ہے۔ لاک ڈاؤن نے حالات کو بد سے بدتر بنا دیا ہے چیزیں لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ اب ہر چیز نایاب اور نادر ہوگئی ہے ۔ادرک 440 روپے کلو ،سیب 300 ،امرود 350، خربوزہ 100 اور دیگر چیزوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ حکومتی پالیسیاں کثیر تعداد میں لوگوں کی معاونت نہیں کرسکتیں۔ سفید پوش لوگ اپنی عزت نفس کے تحفظ اور بقا کی جستجو میں منظرعام پر نہیں آتے۔
خراب حالات جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ جس سے مسائل مزید سنگین صورتحال اختیار کر رہے ہیں معیشیت کا پہیہ رک گیا ہے جس نے زر کی گردش کو روک دیا ہے۔ کورونا عالمی مسئلہ ہے یا سیاسی ،خدا جانے۔ حقیقت سے نظر نہیں چرائی جا سکتی ۔بہت سارے ممالک آپس کی رنجشیں کیمیکل ہتھیار استعمال کرکے پوری کر رہے ہیں۔ ذاتی مفادات اور اہداف کو پورا کرنے کے لیے انسانیت کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ موت سستی اور زندگی مہنگی ہوگئی ہے۔ پوری دنیا میں زندگی کی حرارت سرد پڑ گئی ہے ۔قبل از وقت 19-COVID کی سازش پر سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں میڈیا اور سپرپاور اپنے مقاصد اور عزائم وقتاً فوقتاً عیاں کرتے رہے ہیں۔
2011 میں فلم Contagion بنا کر اور کبھی simpsons کارٹون کو پل بنا کر استعمال کرتے رہے ہیں۔ آج ٹیکنالوجی علم تمام کاوشیں انسانیت کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے خود کار ہتھیار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں جبکہ فطرت اور اس سے منسلک جانور نباتات سب محفوظ ہیں ۔اور انسان سب اپنے جرم کی پاداش میں منہ چھپائے پھر رہے ہیں ۔غریب عوام مجبوریوں کی فرنٹ لائن پہ آگئی ہے ۔
صورت حال جو بھی ہو ،موت دونوں صورت میں ہے۔ ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ زندگی اور حالات کو اعتدال میں لایا جاسکے۔
0

