0

آخری ملاقات :: تحریر: وجیہہ ظفر

“السلام علیکم ،کیسی ہیں آپ؟ اگر آج رات کچھ خاص مصروفیت نہیں ہے تو کھانے پر تشریف لا سکتی ہیں؟”
ابلیس نے مجھے فون پر دعوت کے لیے مدعو کیا ۔
جی جی ضرور میں دس بجے تک آجاؤ گی آپ بے فکر رہیے۔” میں نے اپنے حساب سے وقت طے کرتے ہوئے کافی ادب سے جواب دیا۔
اپنے ہی بتائے ہوئے وقت سے ایک گھنٹا لیٹ میں اپنی اونچی ہیل سنبھالتے سنبھالتے آخر کار ابلیس کے دروازے پر موجود تھی ۔ ڈور بیل بجاتے ہی اندر سے نارمل شکل و صورت کا ایک نوجوان شیطان نمودار ہوا ،”جی فرمائیے ؟” اس نے مجھے پر ایک سرسری سی نگا ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“جی وہ۔۔۔ میں ۔۔۔ حوا کی بیٹی ، اشراف ا لمخلوقات، زمین پر بھیجی گئی خدا تعالیٰ کی پسندیدہ مخلوق ،انبیا کی وارث ، خدا کی نائب یعنی نسل انسان میں سے ہوں جو خدا تعالی کی بہت ہی اعلی تخلیق ہے اور روئے زمین پر انسانوں اور تمام جانداروں سے بھلائی کے لیے بھیجی گئی ہے۔”
میں نے دروازے پر کھڑے اپنا مختصر تعارف کروایا ۔
“ہم کائنات کی رزیل ترین مخلوق بارگاہ خدا وندی سے ٹھکرائی ہوئی اور روئے زمین کی سب سے بدبخت مخلوق جو دلوں میں وسوسے ڈال کر اشرف المخلوقات کو راستے سے بھٹکانے کا چلینج لے کر بھیجے گئے ہیں۔”
ابلیس کے پیروکار نوجوان شیطان نے جواباً اپنا تعارف کروایا ۔
“جی میری حضرت ابلیس کے ساتھ ملاقات طے ہے۔” میں نے اپنا مسئلہ بیان کیا ۔
“جی وہ کافی دیر سے آپکے منتظر ہیں ۔ تشریف لائیے ۔ “نوجوان شیطان نے مجھے راستہ دیتے ہوئے کہا ۔
“زہے نصیب ۔زہے نصیب! “ابلیس دور سے ہی میرے استقبال کے لیے کھڑا ہوگیا ۔
میں نزاکت سے اپنے نہ ہونے کے برابر دوپٹے کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھی۔ ابلیس لائنینگ والی شرٹ میں اپنی کلین شو کے ساتھ کافی پُر جمال لگ رہے تھے ۔

“آئیے بیٹھیے ۔ کھانا شروع کر یں۔” ابلیس نے گوشت سے بھری ڈِش میرے آگے کھسکا دی ۔ “گھبرائیں نہیں ،یہ حلال گوشت ہے ۔”ابلیس نے میری بے چینی بھاپتے ہوئے فوراً کہا،” آپ انسان گوشت کے حلال ہونے میں کافی حساس ہیں۔”

کھانا شروع ہوا، اور ساتھ ہی گفتگو کا آغاز بھی ۔
بات انسانی سفاکیت سے شروع ہوئی اور عرب معاشرے میں بچیوں کو زندہ فن کرنے کا ذکر چھڑ گیا ۔ پھر زمانہ قدیم کی فہاشی ہو یا زنا کے اڈے ، تاتاریوں کے بنائے گئے انسانی لاشوں کے مینار ہوں یا انسان کے خدائی دعوے ، ہر دور ڈسکس ہوا اور بات چلتے چلتے موجودہ دور میں انسانی سفاکی پر آ پہنچی ۔

“سنو بنتِ حوا ،
میں تب بھی موجود تھا جب ابراہیم کو بھڑکتی آ گ کی نذر کرنے کی کوشش کی گئی، میں تب بھی موجود تھا جب موسیٰ کی ماں نے فرعون کے ڈر سے نومولود بچے کو دریا کے حوالے کر دیا، میں نے لاکھوں انسانوں کی لاشوں سے بنائے گئے مینار دیکھے۔ میں نے کربلا کا دل خراش منظر دیکھا ۔۔۔!

مگر اے حوا کی بیٹی، میں تمہاری موجودہ نسل جیسی سفاکی کہیں نہیں دیکھ سکا ۔
کیسے کوئی انسان معصوم بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا سکتا ہے ؟ جہاں دین کے ٹھیکیدار اللہ کے گھر میں بیٹھ کر معصوم پھولوں کو موت کےگھاٹ اتارنے میں مصروف ہیں، جہاں ہر طرف فحاشی اور بے حیائی کا دور دورا ہے، بہن بیٹی جیسے رشتوں میں تمیز نہ رہی، اور تم جیسی عورتیں اپنے حقوق کی بھیک مانگنے کے لیے اپنی ہی عصمت کی نمائش کرتی ہیں۔ کیسے اشراف المخلوقات اپنے ہی بھائیوں کا گوشت کھانے کو بے چین رہتی ہے۔”
میں بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے ، کانپتے ہاتھوں سے اپنا پرس اٹھاتے ہوئے جانے کے لیے اٹھی۔
“سنو آدم اورحوا کی اولاد، “ابلیس نے میرے کانپتے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا،” میری آخری بات سنتی جاؤ ۔
آسمان سے انبیاء کا سلسلہ رک چکا ہے ۔اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو قسم ہے مجھے خدا تعالی کے جاہ و جلال کی کہ لاکھوں انبیاء اور بیشمار آسمانی کتابیں مزید نازل ہوتیں۔
انسانی تاریخ کی اب تک کی سب سے سفاک اور زلیل نسل ہو تم لوگ۔”
میں یعنی اشرف المخلوقات، کائنات کی رزیل ترین مخلوق کے سامنے شرمندہ کھڑی تھی۔
“تم ہو اس سب کے ذمہ دار ۔تم ورغلاتے ہو ۔ بکواس کرتےہو تم۔” میں چیختےچلاتے دروازے کی طرف بھاگی ۔
“احمق انسان، میں تو قید تھا۔زندان میں بند تھا۔ اپنی وحشت کا ذمہ دار مجھے کیسے ٹھہرا سکتے ہو تم لوگ ؟ تم مردود ہو۔” فضا ابلیس کے قہقہوں سے گونج رہی تھی ۔
میں تیز قدموں وہاں سے نکل آئی، مگر ابلیس کے قہقے ابھی تک میرا تعاقب کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں